Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 429

By Maulana Wahiduddin Khan

کر لیا اور وہ بہت سے گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اپنے خود ساختہ طریقے پر نازاں ہے۔ یہی حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ہوا ہے۔ وہ خود ساختہ تعبیرات کے مطابق، مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ یہ تمام گروہ خود ساختہ تصورِ دین پر قائم ہیں۔ لیکن لمبی مدت گزرنے کے بعد اب ہر گروہ کا ذہن اپنے ماڈل کے حق میں اتنا زیادہ پختہ ہو چکا ہے کہ اب وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ اُس پر نظر ثانی کرے ۔ امت مسلمہ اور اس کے بعد امتِ مسلمہ کے حال اور مستقبل کو سمجھنے کے لیے قرآن کے سورۃ الانبیاء کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے : وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ 0 إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَسِيلُونَ (21:95-96)۔ یعنی، جس بستی والوں کے لیے ہم نے ہلاکت مقرر کر دی ہے، اُن کے لیے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں، یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ نہایت تیزی کے ساتھ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔ یہ قرآن کی دو آیتیں ہیں۔ دوسری آیت میں واضح طور پر مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کا ظہور۔ پہلی آیت میں اگرچہ استقبال کا صیغہ استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اس سے مراد بھی مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کے ظہور سے فوراً پہلے کا واقعہ۔ اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں قرآن کے مخصوص اسلوب میں، امتِ مسلمہ کے مستقبل کا ذکر ہے ۔ اس آیت میں دفع کا وہی قانون بیان کیا گیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہاں حرام سے مراد امت کا غلف کی حالت تک پہنچ جانا ہے، یعنی دورِ زوال کی حالت ۔ اور ہلاکت سے مراد یہ ہے کہ جب امت پر یہ حالت آئے گی تو اُس کو خدائی رول کے لیے رد کر دیا جائے گا۔ یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے جو امتِ مسلمہ پر بھی لازما آئے گا : لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320)، لیکن ایک فرق کے ساتھ، وہ یہ کہ امت یہود کو نظری اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page