Urdu book · اظہارِ دین

کے بعد

Urdu book, p. 430

By Maulana Wahiduddin Khan

عملی دونوں اعتبار سے رد کیا گیا تھا، لیکن امتِ مسلمہ کا رد کیا جانا صرف نظری اعتبار سے ہوگا، اس کے بعد بھی عملی طور پر موجودہ دنیا میں اُن کی حیثیت باقی رہے گی، کیوں کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی اور نبی آنے والا نہیں جو دونوں اعتبار سے امتِ مسلمہ کے رد کیے جانے کا اعلان کر سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیات میں صرف پہلی آیت امتِ مسلمہ کے بعد کے دور کے بارے میں ہے۔ جب کہ قانونِ فطرت کے مطابق، امت اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکی ہوگی۔ اس آیت میں ہلاکت سے مراد معروف ہلاکت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کہا جاتا ہے۔ آیت میں حرام سے مراد بھی معروف حرام نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جمود کی وہ حالت ہے، جب کہ لوگوں کے اندر بے حسی کا وہ درجہ آ جائے جس کو قرآن میں قساوت کہا گیا ہے، یعنی قبولیت (receptivity) کے مادے کا ختم ہو جانا۔ اس معاملے کی مثال فطرت میں پتھر اور زرخیز زمین (soil) کی صورت میں رکھ دی گئی ہے۔ پتھر پر پانی ڈالا جائے تو پتھر اس کو قبول نہیں کرے گا۔ پانی اس کے اوپر سے بہہ جائے گا۔ اس کے برعکس، زرخیز مٹی میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو بھر پور طور پر قبول کر لیتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی قوم زندہ ہو تو اس کے اندر قبولیت کی صلاحیت بھر پور طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب قوم میں جمود آ جائے تو وہ قبولیت کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے۔ کسی امت کی یہ حالت کیوں ہوتی ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرضی یقین (false conviction)۔ دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ امت حقیقتاً بے روح (spiritless) ہو جاتی ہے، لیکن ظاہری طور پر وہ ایک خود ساختہ دین (self-styled version of religion) پر قائم رہتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اپنے اسی خود ساختہ دین پر اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ حقیقی دین اس کے لیے اجنبی (غریب) بن جاتا ہے، خواہ اس کو کتنا ہی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی امت کے اندر کوئی نیا فکری انقلاب (intellectual revolution) لانا ناممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page