Urdu book · اظہارِ دین

ایک جائزہ

Urdu book, p. 441

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کا تصور تاریخ ــــــــ ایک جائزہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں حسب ذیل عنوان کے تحت ایک مقالہ چھپا ہے: (Historiography and Historical Methodology) اس مقالے میں ایک ذیلی عنوان (Muslim Historiography) قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ ــــ محمد نے اسلام کو ایک ایسے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا جس میں تاریخ کا طاقت ور تصور موجود تھا۔ اسلام کی مقدس کتاب قرآن انتباہات سے بھرا ہوا ہے جو کہ تاریخ کے اسباق سے ماخوذ ہے: Muhammad made Islam a religion with a strong sense of history. The Quran, Islam's holy book, is full of warnings derived from the lessons of history. (Encyclopedia Britannica, Vol. 8, p.959, 1974) یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس سے قرآن کا تصور تاریخ معلوم ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جاتی تھی۔ عبدالرحمن ابن خلدون (وفات 1406) کے بعد ایک نیا دور آیا، جب کہ نیشن (nation) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جانے لگی۔ اس کے بعد آرنلڈ ٹائن بی (وفات 1975) نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب (A Study of History) لکھی۔ اس میں تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر پوری انسانی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ قرآن کا تصور تاریخ ان سب سے مختلف ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا تصور تاریخ خدائی منصوبہ (divine plan) پر مبنی ہے، یعنی خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں انسانی تاریخ کا جائزہ لینا ۔ زیر نظر مقالے میں اس قرآنی تصور کے مطابق، تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے کے لیے بنیادی طور پر 9 ذیلی عنوانات مقرر کیے گئے ہیں ــــــــ خلافت آدم، اعلان و اسرار، ذبیح عظیم، احسن القصص، مقام محمود، آیتِ اسرا، اظہارِ دین، لوح محفوظ، ادخال کلمہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page