Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کارل مارکس اور اس کے ساتھیوں کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) بھی صرف مفروضہ ثابت ہوا۔ مارکس کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے، سوویت روس میں 1917 میں مصنوعی طور پر یہ انقلاب لایا گیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ نظریہ سوویت روس میں پیدا ہوا، اور سوویت روس ہی کے قبرستان میں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب: ”مارکس ازم — تاریخ جس کو رد کر چکی ہے“)۔ 4۔ جدید کنز یومرازم (modern consumerism) بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کی راحت اور آسائش کا سامان حاصل کرے۔ جدید صنعتی ترقیوں نے بظاہر اس کو ممکن بنا دیا۔ گویا کہ جدید صنعت وہ سبب (cause) تھا جس کے نتیجے کے طور پر انسان کو ہر قسم کی استعمالی اشیا(consumer goods) حاصل ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ لوگ ہر جگہ قائم ہونے والے شاپنگ سنٹروں پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن آخر میں معلوم ہوا کہ یہ ”سبب‘‘ بھی صرف ایک غلط مفروضہ تھا۔ سامانِ استعمال کی تیاری صرف اس قیمت پر ہوئی کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے قابلِ استعمال ہی نہ رہی۔ مثال کے طور پر کاروں اور ہوائی جہازوں نے بظاہر سفر کو آسان کر دیا، مگر اس کا ناقابلِ برداشت حد تک منفی نتیجہ کاربن ایمیشن (carbon emissions) اور گرین ہاؤس گیس (green house gases) کی شکل میں نکلا، جس کا حل تلاش کرنے میں تمام سائنس داں عاجز ہورہے ہیں۔ ائر کنڈیشنگ کے سامانوں کی تیاری کا یہ بھیا نک نتیجہ نکلا کہ زندگی بخش اوزون لیئر (Ozone layer) میں بہت بڑا سوراخ (hole) پیدا ہو گیا، جو خود انسانی زندگی کے لیے ایک نا قابلِ حل چیلنج بن گیا، وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ غیر مضر انداز میں استعمالی اشیا بنانے کے لیے پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور پلوشن فری انڈسٹری کو قائم کرنا سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔ 5۔ اِس معاملے کی ایک مثال بدھ ازم میں پائی جاتی ہے۔ بدھ ازم کو موجودہ زمانے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page