اظہارِ دین
Urdu book, p. 451
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت یوسف کے اس ماڈل کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ حق کے داعی کو چاہیے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں غیر نزاعی طریق کار (non-confrontational approach) اختیار کرے ۔ اس حکمت کا یہ نتیجہ ہوگا کہ خزائنِ ارض پوری طرح اس کے استعمال میں آ جائیں گے اور وہ پرامن رہنے کی شرط پر دعوت کا کام اعلیٰ ترین معیار پر انجام دے سکے گا ۔ حضرت یوسف کے واقعے کو قرآن میں احسن القصص کہا گیا ہے ۔ یہ محض ایک قصے کی بات نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک بہترین ماڈل ہے جس کو ایک پیغمبر کے ذریعے قائم کیا گیا ہے ۔ حضرت یوسف کا قصہ قرآن کے علاوہ، بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ آیا ہے ۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ بادشاہ مصر نے جب حضرت یوسف کو مصر کے خزائن پر مقرر کیا تو اس نے کہا : Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 37: 50) حضرت یوسف کی مثال کی روشنی میں اگر یہ متعین کیا جائے کہ اس کے مطابق ، کام کا بہترین ماڈل کیا ہے ، تو وہ ماڈل یہ ہوگا کہ بادشاہِ وقت سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرو ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ آپ غیر سیاسی دائرے میں موجود تمام مواقع کو آزادانہ طور پر حق کے مشن کے لیے استعمال کر سکیں گے ۔ اس ماڈل کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے سیاسی اقتدار کے معاملے میں موجودہ صورتِ حال کو تسلیم کرنا ، اور سیاسی اقتدار کے باہر کے دائرے میں اپنے عمل کی تنظیم کرنا : Political statusquoism, non-political activism. مقامِ محمود قرآن کی سورۂ الاسرا میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا گیا ہے : عَسَىٰ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (17:79) ۔ یعنی ، امید ہے کہ تمھارا رب تم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرے ۔ قرآن کی اس آیت میں جس مقامِ محمود کا ذکر کیا گیا ہے ، اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے ۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو آخرت سے پہلے موجودہ دنیا میں پیش آنا ہے ۔ مقامِ محمود کے اس دوسرے پہلو کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو استثنائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader