Urdu book · اظہارِ دین

مقامِ محمود

Urdu book, p. 452

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر خود انسانی تاریخ کے مطابق، ایک مُسَلَّم نبوت (acknowledged prophethood) کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ہمارے عقیدے کے اعتبار سے، وہ بلاشبہ خدا کے پیغمبر تھے۔ مگر قدیم زمانے میں موافق اسباب نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے پیغمبر قدیم تاریخی ریکارڈ میں درج نہ ہو سکے۔ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں پہلی بار وہ اسباب پیدا ہوئے جب کہ آپ کو آزاد تاریخی ریکارڈ میں ایک معلوم اور مُسَلَّم شخصیت کے اعتبار سے درج کیا گیا۔ اِس تاریخی حقیقت کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ــ محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے: Muhammad was born within the full light of history. محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب 570 میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ بنو اسماعیل کے ایک فرد تھے۔ پچھلے تقریباً ڈھائی ہزار سال کے دوران عرب کے ماحول میں بنو اسماعیل کے نام سے ایک پوری نسل تیار ہو چکی تھی، جس کے افراد کی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروز کی نسل (a nation of heroes) کہا تھا۔ یہی وہ گروہ ہے جس میں دعوت و تربیت کا کام کر کے وہ جماعت تیار ہوئی جس کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول نے غیر معمولی جد و جہد کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے ایک نیا دور پیدا کر دیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہو گیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہو گیا۔ اِس انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہو گیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔ اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے ۔ مثلاً اس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality) کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا ۔ اس کے بعد دعوت و تبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں ۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونیکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page