Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 453

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق و انفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہو گیا کہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (41:53)۔ آیت اسرا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور، یعنی ہجرت (622ء) سے ایک سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا، جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں : سُبْحٰنَ الَّذِيْ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (17:1)۔ یعنی، پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ اس آیت میں اسرا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسرا کا لفظی مطلب ہے _ رات کا سفر ( night journey)۔ اللہ تعالیٰ کے خصوصی انتظام کے تحت، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ رات کے ایک لمحے میں آپ نے مکہ سے یروشلم کا سفر کیا، اور پھر آپ اسی رات کو یروشلم (فلسطین) سے مکہ واپس آئے_ اس سفر کی مجموعی مسافت تقریباً 25 سو کلومیٹر تھی۔ اس سفر کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا۔ یعنی، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں پیغمبر کو دکھانا_ یہ نشانیاں (آیات اللہ) کیا تھیں، وہ یروشلم کی عمارتیں یا وہاں کے درخت اور چشمے نہ تھے۔ وہ نشانی دراصل فطرت میں چھپا ہوا وہ امکان تھا جس کو تیز رفتار اور تیز رفتار پیغام رسانی کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا دورِ مواصلات (age of communication)_ اس تجربے کے ذریعے پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ انسان کو وہ ذرائع حاصل ہو جائیں گے جن کی مدد سے عالمی سطح پر خدا کے آخری دین کی اشاعت ممکن ہو جائے، یعنی وہی واقعہ جس کو حدیث میں ’ادخال الكلمة فی کل البیوت‘ (ہر گھر میں کلمہ کا داخلہ) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اسرا کے واقعے کی صورت میں جو تجربہ کرایا گیا، وہ مستقبل کے بارے میں ایک بشارت تھی۔ اس بشارت کا ذکر احادیث میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page