آیتِ اسرا
Urdu book, p. 454
By Maulana Wahiduddin Khan
روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3852)۔ یعنی، اللہ ضرور اس امر (دین) کو تکمیل تک پہنچائے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا خوف نہ ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے: لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرَ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی، خدا کی قسم، یہ امر (دین) ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، جہاں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمہ کو داخل نہ کردے۔ قرآن کی سورۃ الاسرامیں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تیز رفتار کمیونیکیشن کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ مذکورہ احادیث میں پیشین گوئی کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ یہ امکان ضرور مستقبل میں واقعہ بنے گا اور خدا کا دین جو عرب میں شروع ہوا، وہ گلوبل کمیونیکیشن کے ذریعے سارے عالم میں پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے۔ اظہارِ دین قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد 'اظہارِ دین' تھا۔ اظہارِ دین کی آیت قرآن میں تین بار آئی ہے (9:33 ;48:28 ;61:9)۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورۃ التوبہ کے الفاظ یہ ہیں: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:33)۔ یعنی، اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو سارے دین پر غالب کرردے۔ اس آیت کی تفسیر کے تحت مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ اظہارِ دین کا مطلب ہے حجت اور دلائل کے ذریعے دین کو غالب کرنا أَي بِالْحُجَّةِ وَالْبَرَاهِينِ (تفسیر القرطبی، جلد 8، صفحہ 121)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader