آیتِ اسرا
Urdu book, p. 455
By Maulana Wahiduddin Khan
اظہارِ دین کے جس واقعے کا قرآن میں ذکر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود زمانۂ رسول میں وہ پوری طرح واقع ہو جائے گا۔ اس آیت میں ایک تاریخی تبدیلی کا ذکر ہے، اور تاریخ میں کوئی بڑی تبدیلی اچانک یا محدود مدت میں نہیں آتی، ایسی تبدیلی ہمیشہ لمبی مدت کے پر اس (process) کے بعد آتی ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی جدوجہد سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلابی عمل شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف حالتوں سے گزرتا ہوا تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا اور پھر اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر وہ واقعہ اپنی کامل صورت میں پیش آ گیا جس کو قرآن میں لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا۔ حجت یا برہان کیا ہے ۔ یہ ایک دو طرفہ عمل ہے، یعنی ایک طرف حجت کو پیش کرنے والا ہوتا ہے اور دوسری طرف حجت کو سننے والا۔ اس لیے حجت کو مخاطب کے ذہنی تقاضے کے مطابق ہونا چاہیے ۔ علمی استدلال دراصل اس بات کا نام ہے کہ مخاطب کے علمی مسلّمہ پر اپنی بات کو ثابت کیا جائے۔ ساتویں صدی کے نصف اول میں جب کہ قرآن اترا، اُس وقت دنیا روایتی دور سے گزر رہی تھی ۔ اُس وقت صرف روایتی استدلال ہی ممکن تھا۔ مگر قرآن ایک ابدی کتاب کی حیثیت سے اتارا گیا ہے، اس لیے قرآن کے مذکورہ الفاظ میں یہ بات شامل ہے کہ نہ صرف روایتی دور میں، بلکہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی معیار کے مطابق بھی قرآن مسلمہ طور پر اپنی ایک ثابت شدہ کلام کی حیثیت کو برقرار رکھے گا۔ اس مصلحت کا تقاضا تھا کہ انسانی علم کا ارتقا ایسے نہج پر ہو جو قرآن کی صداقت کو بعد کے دور میں بھی یکساں طور پر برقرار رکھے ۔ یہی وہ مطلوب ہے جو بعد کے سائنسی دور میں حاصل ہوا۔ سائنس کی دریافتوں نے صرف یہ کیا کہ قرآن کے نظریات کو دوبارہ سائنس کے معیار پر ایک مسلمہ معیار کی حیثیت دے دی۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی موافق قرآن واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی تھی : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader