Urdu book · اظہارِ دین

آیتِ اسرا

Urdu book, p. 456

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت میں آفاق وانفس کی جن نشانیوں کا ذکر ہے، اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس کی دریافتیں (scientific discoveries) کہا جاتا ہے۔ یہ دریافت دراصل فطرت میں قائم شدہ خدائی قانون کی دریافتیں ہیں۔ چوں کہ قرآن کو نازل کرنے والا خدا ہے، اُسی نے فطرت کے ان قوانین کو بھی قائم کیا ہے، اس لیے دونوں کے درمیان کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس مطابقت نے حاملین قرآن کو موجودہ زمانے میں ایک یہ موقع دیا ہے کہ وہ قرآن کی صداقتوں کو سائنس کے مسلمات کی روشنی میں ثابت شدہ بناسکیں۔ قرآن میں اظہار دین کے جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد یہ نہیں ہے کہ خود زمانہ نزول میں یہ واقعہ عملاً پیش آجائے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب آئے گا، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے پراسس کو شروع کرے گا۔ یہ پراسس عرب میں شروع ہوا اور بتدریج ارتقا کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس تکمیل کے ذریعے نہ صرف واقعات فطرت ظہور میں آئے جنھوں نے اسلامی عقائد کے اثبات کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کی، بلکہ اس کے ذریعے دوسرے وہ اجتماعی واقعات ظہور میں آئے جو اسلامی دعوت کے عین موافق تھے۔ مثلاً آزادی، جمہوریت اور مذہب کے اعتبار سے کھلاپن (openness)، وغیرہ۔ قرآن کی اس آیت میں اظہار سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ اور ایسے حالات کا پیدا ہونا ہے جس کے بعد قرآن کے مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، ہر قسم کے مواقع اس کے لیے قابل استعمال ہوجائیں۔ اکیسویں صدی عیسوی میں، قرآن کی یہ پیشین گوئی عملاً پوری طرح وقوع میں آچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی اظہار دین کی صدی ہے۔ اسلامی انقلاب کے ذریعے جو تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا، وہ اکیسویں صدی میں اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا ہے۔ اب اہلِ اسلام کا واحد فریضہ یہ ہے کہ وہ تمام دوسری چیزوں کو ثانوی (secondary) بنائیں۔ وہ دعوت الی اللہ، بہ الفاظ دیگر دورِ جدید کی نسبت سے قرآنی تعلیمات کی اشاعتِ عام کریں، یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مرد اس سے باخبر ہوجائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page