کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس مقبولیت کا راز بھی یہی ہے، جس کو اوپر ہم نے قانونِ تعلیل (principle of causation) کے تحت بیان کیا ہے۔ جدید سائنس کے زیر اثر موجودہ زمانے میں وہ ذہن بنا، جو ہر چیز کو سبب اور علّت (cause and effect) کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدھ ازم نے زندگی اور موت کے ظاہر ہ کے بارے میں اس اصول کو منطبق کیا۔ اگر چہ یہ انطباق تمام تر قیاسی تھا، لیکن بظاہر اسباب پر مبنی ہونے کی بنا پر وہ جدید مغربی ذہن کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گیا۔ موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی غریب خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی امیر خاندان میں، کوئی مصیبت میں جیتا ہے اور کوئی آرام میں۔ بدھ ازم نے مفروضہ طور پر اس کا ایک سبب دریافت کر لیا، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے پچھلے کرم (عمل) کے لازمی نتیجے کے طور پر اپنے عمل کے انجام کو بھگت رہا ہے۔ یہ توجیہہ چوں کہ بظاہر ”سبب“ کے اصول پر مبنی تھی، اس لیے وہ جدید ذہن کو پسند آ گئی اور ان کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہو گئی۔ گویا کہ یہاں بھی مادی سبب نے غیر مادی خدا کی جگہ لے لی۔ لیکن بدھ ازم کی یہ توجیہہ خود سائنسی تحقیق کے مطابق، سرتا سر غیر ثابت شدہ تھی۔ علمِ نفسیات کے شعبے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا حافظہ (memory) انسانی شخصیت کا نا قابلِ تقسیم حصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، ایک خاص صورت میں نیا جنم لیتا ہے تو اس کو اپنے پچھلے جنم کی ساری باتیں یاد رہنا چاہئیں۔ کیوں کہ یہ اُس کی پچھلی شخصیت (personality) ہی ہے، جو نئی شخصیت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی انسان کو اپنے پچھلے جنم کا معاملہ یاد نہیں۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، ہر عورت اور مرد جس کو آج ہم دیکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو، وہ خود اپنے پچھلے جنم کا نیا جنم ہے، مگر ان میں سے کسی کو بھی اپنے پچھلے جنم کی بات یاد نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader