کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہندو عورت یا کسی ہندو مرد کو پر اسرار طور پر سامنے لایا جاتا ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے احوال بتاتا ہے، مگر اس قسم کا شعبدہ کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ علمی اعتبار سے ایسا واقعہ صرف اُس وقت دلیل بن سکتا ہے، جب کہ تمام ہندوئوں اور غیر ہندوئوں کو اپنے پچھلے جنم کی بات یاد ہو، نہ کہ صرف چند پر اسرار افراد کو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب سمادھی لگائی تھی تو انہوں نے ماضی میں سفر کیا تھا، اور اپنے پچھلے تمام جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ دعویٰ تمام تر صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوتم بدھ نے خود اپنی زبان سے ایسا کہا تھا۔ یہ صرف بعد کے شارحین ہیں، جنھوں نے اپنے قیاس اور استنباط کے ذریعے اس قسم کی بات کہی ہے، اور بعد کے شارحین کا استنباط اس معاملے میں ہرگز کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون تعلیل (principle of causation) اپنی ابتدا ہی میں صرف ایک مفروضے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ کوئی علمی دلیل نہ تھا۔ اس کی شہرت یا مقبولیت اس کے علمی وزن کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ صرف جذباتیّت کی بنیاد پر ہوئی ۔ لوگوں نے جلد بازی میں ایک ایسے مفروضے کو حقیقت سمجھ لیا، جو اپنے آغاز کے پہلے دن ہی صرف ایک مفروضہ تھا، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ جدید ملحدین کے اس استدلال میں واضح طور پر ایک بہت بڑا منطقی خلا تھا، وہ یہ کہ کسی واقعے کا جو سبب (cause) سائنس بتا رہی ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی آخری بات نہیں، اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ سبب کیوں کر وقوع میں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبب (cause) اصل معاملے کی توجیہ نہیں کرتا، سبب خود اس کا محتاج ہے کہ اُس کی کوئی توجیہ تلاش کی جائے: Cause does not explain, cause itself is in need of an explanation. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘) (God _(Arises

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader