اظہارِ دین
Urdu book, p. 470
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ انسانی تاریخ کا ہے۔ انسانی تاریخ کے بظاہر بہت سے اجزا ہیں۔ اس میں بظاہر بہت سی سرگرمیاں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن تاریخ کی توجیہ کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ تاریخ کے معاملے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے اور خالق کے منصوبے کے مطابق ، اس عظیم کارخانہ تاریخ سے کون سا پروڈکٹ نکالنا مقصود ہے۔ اس کے سوا، کوئی دوسرا نقطہ نظر تاریخ کی درست توجیہہ میں کارآمد نہیں ہو سکتا۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران خالق کو جو پروڈکٹ وجود میں لانا مقصود ہے، وہ صرف ایک ہے۔ اس پروڈکٹ کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے، یعنی ایک فرد کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر۔ یہی ربانی افراد خدا کے منصوبہ تخلیق کی اصل غایت (raison d'etre) ہیں۔ جب تک یہ ربانی افراد بنتے رہیں گے، اُس وقت تک تاریخ کے ہنگامے جاری رہیں گے، اور جب اس قسم کے افراد پیدا ہونا بند ہو جائیں تو اس کے بعد وہ وقت آ جائے گا، جب کہ تاریخ کے موجودہ دور کو ختم کر کے اس کے دوسرے دور کا آغاز کر دیا جائے۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کو عادلانہ اجتماعی نظام (just social system) کی اصطلاح میں جانچنا درست نہیں۔ خالق کا منصوبہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں عادلانہ نظام قائم ہو، بلکہ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی تجربہ گاہ میں عادل افراد پیدا ہوں اور پھر ان عادل افراد کو منتخب کر کے اُنھیں یہ موقع دیا جائے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں ابدی طور پر رہ سکیں ۔ تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation of history) صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ مذکورہ اصول کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی دوسرا اصول، تاریخ کی معنویت (meaning) کو واضح کرنے کے لیے کارآمد نہیں۔ افراد، نہ کہ مجموعہ تاریخ کی صحیح تعبیر صرف وہ ہے جو خالق کے تخلیقی پلان کی روشنی میں کی جائے۔ تعبیر تاریخ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader