Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 471

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موضوع پر، قرآن کو ایک مستند ماخذ کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، تاریخ کی تعبیر کیا ہونا چاہیے۔ پچھلے ادوار میں ہزاروں مورخین پیدا ہوئے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تمام مورخین کی تیار کردہ کتابیں صرف تاریخی واقعات کا دفتر (chronicles) ہیں، وہ انسانی تاریخ کی معنویت کو واضح نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کتب تاریخ کی روشنی میں تاریخ صرف بے معنی واقعات کا ایک جنگل نظر آتی ہے۔ اسی حقیقت کو انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (وفات 1794) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے - انسانیت کی تاریخ، جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے: History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. (The Decline And Fall Of The Roman Empire, vol 1, p. 72, London) تعبیر تاریخ کے اعتبار سے، سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام مورخین تاریخ کو مجموعہ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور وہ مجموعہ کے اعتبار سے، اس کے حسن و قبیح کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر خدائی تخلیق کے مطابق، تعبیر تاریخ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مجموعہ انسانیت کو دیکھ کر تاریخ کی تعبیر نہ کی جائے، بلکہ افراد انسانی کو دیکھ کر اس کی تعبیر کی جائے۔ مجموعہ کے اعتبار سے دیکھنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کا کوئی عہد عہد زریں (golden age) نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر افراد کے اعتبار سے، تاریخ کو دیکھا جائے تو ہر عہد، زریں افراد (golden individuals) کا عہد نظر آئے گا۔ معیاری افراد کا انتخاب اصل یہ ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کو اس لیے نہیں بنایا کہ یہاں مجموعہ کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کر رہے۔ اس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page