اظہارِ دین
Urdu book, p. 472
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں ہر نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابل، قابلِ رد تھا اور ہابیل، قابلِ قبول۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کر رہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کر رہا ہے۔ رد و قبول کے اسی معاملے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ 0 وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (40-56:39) ۔ یعنی، اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔ قابلِ قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہو جائے گی تو اس کے بعد خالق کائنات موجودہ دنیا کو ختم کر کے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ قابلِ قبول افراد اس جنت میں بسادیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف وحزن سے پاک زندگی گزاریں گے۔ اور ناقابلِ قبول افراد کو رد کر کے کائناتیکوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ ابد تک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔ معیارِ تاریخ یہی تاریخ کو دیکھنے کا صحیح معیار ہے۔ اس معیار سے تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ فساد کے جنگل میں ہمیشہ اعلیٰ درجے کے صالح افراد پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اسی جنگل میں آدم کے بیٹے ہابیل بھی تھے جنھوں نے اپنے قاتل سے کہا: لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (5:28) ۔ یعنی، اگر تم مجھ کو قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ہابیل کا یہ قول امن کا قول تھا۔ ہابیل نے اپنی اس روش سے امن پسندی کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کے آگے امن پسندی کا کوئی اور درجہ نہیں۔ اسی طرح، تاریخ کے اس جنگل میں ہاجرہ اُمِ اسماعیل جیسی خاتون پیدا ہوئیں ۔ انھوں نے ڈھائی ہزار سال پہلے، خدا کے منصوبے کے مطابق ، ایک نئی نسل بر پا کرنے کے لیے یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader