Urdu book · اظہارِ دین

معیارِ تاریخ

Urdu book, p. 473

By Maulana Wahiduddin Khan

قربانی دی کہ وہ اپنے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو لے کر عرب کے صحرا میں آباد ہوگئیں ۔ اُس وقت اُن کی زبان سے یہ تاریخی کلمہ نکلا کہ جب خدا کا یہی منصوبہ ہے تو خدا ہم کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا — اِذَا لَا يُضَيِّعُنَا الله (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364) ۔ ہاجرہ کی اِسی قربانی کے نتیجے میں بنو اسماعیل کی وہ نسل پیدا ہوئی جو اعلیٰ انسانی اوصاف کی حامل تھی۔ ایک مغربی اسکالر پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات 1940) نے اِس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بنو اسماعیل کی اس نسل کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) قرار دیا تھا۔ اِس طرح، تاریخ کے اِس جنگل میں ابوبکر اور عمر جیسے افراد پیدا ہوئے جن کو اقتدار ملا، لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بگاڑ سے کامل طور پر بچایا۔ مہاتما گاندھی نے ابوبکر اور عمر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ــــ اگرچہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حاکم تھے، مگر انھوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری : Though, they were masters of vast empire, yet they lived the life of paupers. (Harijan, July 27, 1937) انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ خدا نے انسان کی فطرت میں جنت کا تصور ودیعت کر دیا ہے۔ اسی لیے ہر عورت اور مرد جو پیدا ہوتے ہیں، وہ تمناؤں اور خواہشوں (desires) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر فطری طور پر ایک تصوراتی دنیا بیسی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے، انسان ایک طالب جنت مخلوق (paradise-seeking animal) ہے۔ اِسی فطرت کی بنا پر ایسا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان اپنے لیے ایک معیاری دنیا کی تعمیر میں لگ جاتا ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اپنے تمام وسائل کو ایک ایسی دنیا کے حصول میں لگا دیتا ہے، جو اس کے لیے خوشی اور سکون کی دنیا ہو، جہاں اس کو پورے معنوں میں فل منٹ (fulfilment) مل سکے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی جو اس دنیا میں آیا، وہ اپنی مطلوب دنیا کی تعمیر میں ناکام رہا، اور مایوسی کی نفسیات میں مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس عموم میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ راقم الحروف نے ایک بار انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page