اظہارِ دین
Urdu book, p. 474
By Maulana Wahiduddin Khan
تقریبا 400 ممتاز افراد کے بارے میں یہ معلوم کیا کہ ان کے آخری ایام کیا تھے۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ بلا استثناء ان میں سے ہر شخص سخت مایوسی (despair) کی حالت میں مرا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں جو معیاری دنیا بسی ہوئی ہے، وہ جنت ہے۔ مگر جنت کو پانے کا مقام آخرت ہے، نہ کہ موجودہ دنیا۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنت میں بسائے جانے کے قابل بنائے۔ مگر ساری تاریخ میں انسان نے یہ کیا کہ ہر ایک موجودہ دنیا ہی میں اپنی جنت کی تعمیر کرنے لگا۔ ایسا کرنا خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ اس لیے ہر انسان صرف ناکامی کی ایک مثال بن کر رہ گیا۔ مفکرین اور مصلحین نے عام طور پر اپنا نشانہ یہ بنایا کہ وہ اس دنیا میں انصاف اور انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے ایک معیاری دنیا بنائیں۔ مگر اُن کا نشانہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) وجود میں لایا جائے، بلکہ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ ہے کہ معیاری افراد وجود میں آئیں۔ اس قسم کے معیاری افراد تاریخ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ ان افراد کو منتخب کرکے اُنھیں جنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا۔ تعبیر تاریخ کی مثالیں تاریخ کی تعبیر (interpretation of history) ایک مستقل سبجکٹ ہے، مگر اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ سب کی سب کنفیوژن کا کیس ہیں۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اس موضوع پر اب تک ایسی کتاب نہ لکھ سکا جس میں انسانی تاریخ کی قابل فہم تعبیر پیش کی گئی ہو۔ اس موضوع پر سب سے زیادہ نمایاں نام غالباً کارل مارکس (وفات 1883) کا ہے۔ اس نے بطور خود تاریخ کی ایک متعین تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مارکس کی اس تعبیر تاریخ کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history) یا تاریخی مادیت (historical

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader