تعبیر تاریخ کی مثالیں
Urdu book, p. 475
By Maulana Wahiduddin Khan
materialism) کہا جاتا ہے۔ کارل مارکس نے یہ کیا کہ اس نے نیوٹن کے دریافت کردہ قانون فطرت (law of nature) کو انسانی تاریخ پر منطبق کر دیا، مگر مارکس کی یہ تعبیر تاریخ پہلی ہی نسل میں اہل علم کے درمیان قابل رد قرار پا گئی۔ انسان ایک صاحب اختیار مخلوق ہے۔ اس کے برعکس، مادہ کوئی ذاتی اختیار نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں ایک کے قانون کو دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا قیاس مع الفارق ہے، جو کہ عملاً ممکن نہیں۔ پہلی عالمی جنگ (1914-1918) کا واقعہ اس مارکسی نظریے کی عملی آزمائش تھا۔ یہ نظریہ اس پہلی ہی آزمائش میں مکمل طور پر رد ہو گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مشہور کمیونسٹ لیڈر ولادمیر لینن (وفات 1924) نے 1919 میں کمیونسٹ انٹرنیشنل (comintern) قائم کی۔ اُس کا نظریہ تھا کہ ساری دنیا کے مزدور ایک طرف ہیں اور تمام دنیا کے سرمایہ دار ایک طرف۔ اس کے بعد 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی ۔ یہ جنگ جن ملکوں کے درمیان ہوئی، اُن ملکوں کے سربراہ مارکسی تصور کے مطابق، سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ مارکسی تصور کے مطابق، یہ فرض کر لیا گیا کہ ان ملکوں کے مزدور اپنے ملکوں کی سرمایہ دار حکومتوں کا ساتھ نہیں دیں گے، بلکہ وہ عالمی مزدور طبقہ (class) کا ساتھ دیں گے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ ہر ملک کے مزدوروں نے خود اپنے ملک کی حکومتوں کا ساتھ دیا۔ اس طرح تاریخی مادیت یا جدلیاتی مادیت کا نظریہ اپنے پہلے ہی تجربے میں ختم ہو گیا۔ اِسی طرح کچھ اور اہل علم نے انسانی تاریخ کو ایک تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مگر عملاً وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اس کی ایک مثال کیمبرج کے پروفیسر ایچ بٹرفیلڈ (H. Butterfield) کی ہے۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جو 146 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب 1931 میں لندن سے چھپی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Whig Interpretation of History

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader