Urdu book · اظہارِ دین

تعبیر تاریخ کی مثالیں

Urdu book, p. 476

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی یونی ورسل مارل کوڈ (universal moral code) کی روشنی میں پوری تاریخ کو ایک اخلاقی تعبیر دی جائے، مگر خود مصنف نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تاریخ کی عملی تصویر کے مطابق، اس قسم کی تعبیر ممکن نہیں۔ اسی طرح ایک مثال مشہور برطانی رائٹر جارج برنارڈ شا (وفات 1950) کی ہے۔ اس سلسلے میں اس کی ایک کتاب ”مین اینڈ سپرمین“ (Man and Superman) ہے۔ اس کتاب میں اُس نے مفروضہ ارتقائی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان لازمی ارتقائی قانون کے مطابق، بشر (man) سے فوق البشر (superman) کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ صرف ایک خیالی کہانی ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا کوئی وزن نہیں۔ منفی تصور تاریخ انسانی تاریخ کے بارے میں عام طور پر اہلِ علم کا نقطۂ نظر منفی ہوتا ہے۔ مثلاً مشہور انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) نے لکھا ہے کہ ــ انسانیت کی تاریخ جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے: History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind. (The Decline And Fall Of The Roman Empire, vol 1, p. 72, London) مختلف زبانوں میں جو بڑے بڑے ناول لکھے گئے ہیں، وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں، نہ کہ طربیہ (comedy)۔ انسانی تاریخ کے بارے میں اس قسم کا منفی تصور کیوں ہے۔ اس کا سبب دراصل تاریخ کا غیر فطری طریق مطالعہ ہے۔ تاریخ کا فطری طریق مطالعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تاریخ کے بارے میں خالق کے نقشہ (model) کو دریافت کیا جائے، اور اس کے بعد اس خدائی نقشے کی روشنی میں تاریخ کا جائزہ لیا جائے۔ جو لوگ تاریخ کے بارے میں منفی نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اُن سب کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page