تعبیر تاریخ کی مثالیں
Urdu book, p. 477
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے مفروضہ نقشے کی روشنی میں تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں، اور جب تاریخ ان کے مفروضہ نقشے کے مطابق، بامعنی نظر نہیں آتی تو وہ تاریخ کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاریخ کے بارے میں اسی منفی نقطۂ نظر کے تحت ایک مغربی مفکر نے کہا کہ۔ اس دنیا میں ہر چیز حسین ہے، صرف ایک چیز حسین نہیں، اور وہ انسان ہے: In this world everything is beautiful except man. یہ تبصرہ غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ دنیا جتنی حسین ہے، اُس سے بھی زیادہ انسانی دنیا حسین ہے۔ انسان مقصد کائنات ہے، پھر وہ غیر حسین کیسے ہوسکتا ہے۔ انسانی تاریخ یہ تبصرہ دراصل ایک غلط معیار کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ مبصر نے مادی دنیا کو دیکھا۔ اس کو نظر آیا کہ مادی دنیا میں پورے مجموعے کی سطح پر حسن پایا جاتا ہے۔ اس نے چاہا کہ یہی مجموعی حسن اس کو انسانی دنیا میں بھی نظر آئے۔ جب اُس نے پایا کہ انسانی دنیا میں اس قسم کا مجموعی حسن نہیں ہے، تو اُس نے مذکورہ قسم کا ریمارک (remark) دے دیا۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی دنیا اور بقیہ مادی دنیا کے درمیان ایک فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں مجموعی نظم (collective discipline) درکار ہے، کیوں کہ بقیہ دنیا امتحان (test) کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہے، بلکہ وہ انسان کے لیے ایک معاون ذریعے کے طور پر پیدا کی گئی ہے، مجموعی نظم کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس، انسان کا معاملہ فرد فرد کا معاملہ ہے۔ یہاں مجموعی حسن مطلوب نہیں، بلکہ یہاں انفرادی حسن مطلوب ہے۔ انسانی دنیا میں ہر فرد کو الگ الگ جانچا جارہا ہے۔ ہر فرد کو الگ الگ یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کے معاشرے کا ایک کامیاب ممبر بناسکے۔ اسی منصوبہ تخلیق کی بنا پر دونوں کی جانچ کا الگ الگ معیار ہوگا۔ انسان کو فرد کی سطح پر جانچنا چاہیے اور بقیہ کائنات کو مجموعے کی سطح پر۔ حقیقت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader