Urdu book · اظہارِ دین

تعبیر تاریخ کی مثالیں

Urdu book, p. 478

By Maulana Wahiduddin Khan

تخلیق کی دونوں مثالیں شاہ کار ہیں، انسان بھی اور بقیہ کائنات بھی، مگر دونوں کو جانچنے کا معیار ایک دوسرے سے الگ ہے۔ تاریخ کے مطالعے کے بارے میں جو لوگ منفی نقطہ نظر رکھتے ہیں، ان کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ پورے انسانی معاشرے یا پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ چوں کہ مجموعے کی سطح پر اُنھیں مطلوب معیاری سماج نظر نہیں آتا، اس لیے وہ کہہ دیتے ہیں کہ انسانی دنیا میں برائی (evil) کے سوا کچھ اور نہیں، حالانکہ اُنھیں یہ کہنا چاہیے کہ انسانی دنیا میں اگرچہ مجموعے کی سطح پر برائی ہے، لیکن افراد کی سطح پر خیر موجود ہے۔ مذکورہ منفی سوچ کے تحت ’پرابلم آف اول‘ (problem of evil) جیسا نظریہ وجود میں آیا ہے، جو کہ موجودہ زمانے میں عام طور پر اہل علم کے ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ انسانی دنیا کو مجموعی سطح پر معیاری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کر دیا جائے، کیوں کہ انسانی سماج میں تمام برائیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ انسان کی طرف سے آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom) ہے۔ مگر انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا خود خالق کے منصوبے کو منسوخ کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے خالق نے اپنے منصوبے کی اس طرح تشکیل کی کہ اس نے انسان کے معاملے کو مبنی بر مجموعہ (collective-based) نہیں بنایا، بلکہ اس کو مبنی بر فرد (individual-based) بنایا۔ اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، خدا کا کَنْسَرْن (concern) یہ نہیں ہے کہ پورے مجموعۂ انسانی میں لازماً معیاری نظام قائم ہو۔ ایسا صرف اُس وقت ہوسکتا تھا جب کہ انسان کی آزادی کو کلی طور پر منسوخ کر دیا جاتا، اور خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، پورے اجتماع یا پورے مجموعے کی سطح پر معیار (ideal) کا حصول ممکن نہیں، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں ایسے معیاری افراد وجود میں آتے رہیں جو اپنی ذات کی سطح پر سچائی کو دریافت کریں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیں، یہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page