Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 492

By Maulana Wahiduddin Khan

تک انسان کے لیے صرف موضوعِ پرستش (object of worship) بنی ہوئی تھی۔ انسان کو مکمل آزادی عطا کر کے اس کے لیے ذہنی ارتقا کا راستہ کھولنا، فطرت میں چھپے ہوئے اُن وسائل کو وقوع میں لانا جو عالمی دعوت کو ممکن بنانے والے ہوں، وغیرہ۔ انسانی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان علمی تحقیق کا کام خاص طور پر عباسی دور میں شروع ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں مسلمانوں کی عظیم سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ اس بنا پر علمی تحقیق کی طرف مسلمان صرف جزئی طور پر متوجہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی سرگرمیوں میں لگا ہوا تھا۔ ان کی توانائی کا صرف محدود حصہ علمی تحقیق کے میدان میں صرف ہو رہا تھا۔ یہ تناسب ناکافی تھا۔ علمی تحقیق کا یہ کام بہت بڑا کام تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان اپنی طاقت کو پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کے میدان میں وقف کر دیں۔ مگر سیاسی اقتدار اس قسم کی علمی یکسوئی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اس کے برعکس، صلیبی جنگوں کے بعد علمی تحقیق کا کام جب یورپ کی مسیحی قوموں میں شروع ہوا تو سیاسی اقتدار اُن کے لیے رکاوٹ نہ بن سکا، کیوں کہ عملاً وہ اُن کے پاس موجود ہی نہ تھا۔ چنانچہ مسیحی قوموں کے اعلیٰ ذہن بڑی تعداد میں علمی تحقیق کے میدان میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ علمی تحقیق کا کام شروع کر دیا۔ یہ بھی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو ہینڈل (manage) کرنے کا معاملہ تھا۔ جب خالق نے دیکھا کہ مسلم دنیا کے حالات علمی تحقیق کو زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دینے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تو اُس نے علمی تحقیق کے کام کو مسلم دنیا سے نکال کر مسیحی دنیا کی طرف منتقل کر دیا، جہاں اس قسم کی رکاوٹ والے اسباب موجود نہیں تھے۔ مشرق سے مغرب کی طرف اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ حالات کی موافقت کی بنا پر اس کی توسیع اتنی تیز رفتاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page