Urdu book · اظہارِ دین

مشرق سے مغرب کی طرف

Urdu book, p. 493

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ ہوئی کہ 50 سال کے اندر اہل اسلام کا ایک ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امت محمدی تسخیر فطرت اور سماجی انقلاب کے وہ مطلوب کام انجام دے جس کے لیے اُس کو سیاسی غلبہ عطا کیا گیا تھا۔ مگر مسلمان بہت جلد آپس کے سیاسی ٹکراؤ میں مشغول ہو گئے اور مطلوب کام کی طرف وہ زیادہ پیش قدمی نہ کر سکے۔ اب خدائی منصوبے کے مطابق ، تاریخ میں وہ واقعہ پیش آیا۔ جس کو قرآن کی سورۃ محمد میں استبدال قوم (47:38) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ استبدال (replacement ) کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کرنا۔ صلیبی جنگوں (Crusades ) کے ذریعے استبدال کا یہی معاملہ پیش آیا۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں نے فلسطین کو مسیحیوں سے چھین لیا اور اُس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ فلسطین مسیحی قوموں کے لیے ایک مقدس سرزمین ( holy land ) کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ مسیحی قو میں اِس قبضے کو کبھی قبول نہ کر سکیں ۔ یہ نزاع باقی رہی ، یہاں تک کہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے وہ شام اور فلسطین کے علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ 1095 ء میں شروع ہوا۔ تقریباً 200 سال کے اندر دونوں قوموں کے درمیان وقفے وقفے سے 9 بار خونریز لڑائیاں ہوئیں ، مگر یورپ کی مسیحی سلطنتوں کی متحدہ کوشش کے باوجود اُن کو زبردست ناکامی ہوئی۔ اِس کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مسلح جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دینا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ چنانچہ مسیحی قوموں میں ایک نیا ذہن شروع ہوا۔ اِس نئی جدوجہد کا نام سپر یچول کروسیڈ (spiritual crusades ) تھا۔ اسپر یچول کروسیڈ سے مراد دراصل انٹلیکچول کروسیڈ (intellectual crusades ) تھا۔ چنانچہ مسیحی قوموں نے اب اپنی کوششوں کو علمی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ یونانی فلسفیوں اور مسلم فلسفیوں کی کتابوں کے ترجمے وسیع پیمانے پر لاطینی زبان میں کیے جانے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں تعلیم اور علمی ریسرچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page