مشرق سے مغرب کی طرف
Urdu book, p. 494
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہوئیں۔ چنانچہ اس کی دو مثالیں یہ ہیں کہ "اسپر پچول کروسیڈ" کے سینٹر کے طور پر 1096 میں برطانیہ میں آکسفورڈ یونی ورسٹی قائم ہوئی اور 1209 میں کیمبرج یونی ورسٹی قائم کی گئی، وغیرہ۔ اس کے بعد چودھویں صدی اور سولھویں صدی عیسوی کے درمیان یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو نشاة ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ اب اسپر پچول کروسیڈس نے مزید ترقی کر کے نیچرل کروسیڈس (natural crusades) کی حیثیت اختیار کرلی۔ مغرب میں اسپر پچول کروسیڈ اور نیچرل کروسیڈ ابتدا منفی ذہن کے تحت پیدا ہوئی۔ مغربی قوموں کو جس چیز نے ابتداء متحرک کیا تھا، وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے میدان میں ہاری ہوئی جنگ کو دوبارہ علم کے میدان میں کامیاب بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب کی اس منفی نفسیات کو محرک (incentive) کے طور پر استعمال کیا۔ اللہ نے اہل مغرب کو اس کا ذریعہ بنایا کہ وہ نیچر میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں اور ایک ایسی دنیا وجود میں لائیں جو اسلامی مشن کے لیے تائید کا ذریعہ ثابت ہو۔ اہل مغرب کے ذریعے یہ تائیدی واقعہ جو اپنی پوری صورت میں بیسویں صدی میں ظہور میں آیا، اس کی پیشگی خبر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، مستقبل میں ہم اُن کو اپنی آیات دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن کے اوپر یہ آشکارا ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اہل مغرب کے اس رول کا تذکرہ حدیث میں بھی بطور پیشین گوئی موجود ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ سیکولر کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سیکولر مؤیدین سے مراد مغربی دنیا کے وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے جدید تہذیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader