اظہارِ دین
Urdu book, p. 495
By Maulana Wahiduddin Khan
(modern civilization) وجود میں آئی اور اس کے ذریعے آفاق وانفس کی آیات دریافت ہوئیں ۔ اہلِ مغرب کے اندر انتقام کی جو نفسیات پیدا ہوئی ، وہ فطری طور پر نہایت شدید تھی۔ اس شدید محرک کو اللہ نے رموزِ فطرت کی دریافت کے لیے استعمال کیا۔ رموزِ فطرت کی دریافت کا یہ کام ایک بے حد مشکل کام تھا۔ اُس میں اپنے آپ کو ڈیڈی کیٹ (dedicate) کرنے کے لیے نہایت شدید محرک (strong incentive) درکار تھا۔ صلیبی جنگوں میں اہلِ مغرب کی توہین آمیز شکست (humiliating defeat) نے اُن کے اندر یہی شدید محرک پیدا کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کی ایک سائنٹفک ٹیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ انٹارکٹکا (Antarctica) کی دریافت کریں۔ یہ ایک نہایت جان جوکھم کا کام تھا۔ ٹیم کے سر براہ سر ارنسٹ شیکلٹن (Sir Ernest Shackleton) نے 1900ء میں لندن کے اخبار ٹائمس (The Times) میں ایک اشتہار چھپوایا۔ اس کے الفاظ یہ تھے : "Men wanted for hazardous journey. Small wages, bitter cold, long months of complete darkness, constant dangers, safe return doubtful. Honour and recognition in case of success." یعنی ایک پر خطر سفر کے لیے آدمی درکار ہیں۔ بہت کم معاوضہ، شدید ٹھنڈک، لگاتار تاریکی کے لمبے مہینے، مسلسل خطرہ، محفوظ واپسی مشتبہ، کامیابی کی صورت میں عزت اور اعتراف۔ یہ اشتہار جب ٹائمس میں چھپا تو اس میں شرکت کے لیے اتنے زیادہ افراد کی درخواستیں آئیں کہ سلیکشن (selection) کی بنیاد پر اُن میں سے صرف منتخب افراد کو لیا گیا— یہی وہ مجنونانہ اسپرٹ تھی جس نے اہلِ مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ جدید دور کو وجود میں لاسکیں۔ فطرت کا ایک قانون اہلِ مغرب، اصلاً خدائی دین کے مؤید کے طور پر ابھرے تھے، لیکن ردعمل کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اس خدائی منصوبے کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے غیر ضروری طور پر اہلِ مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا اور اُن سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ انیسویں صدی اور بیسویں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader