Urdu book · اظہارِ دین

فطرت کا ایک قانون

Urdu book, p. 496

By Maulana Wahiduddin Khan

صدی کی دوسوسالہ تاریخ اس غیرضروری لڑائی میں ضائع ہوگئی۔ تاریخ کے اس ارتقائی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ہمیشہ ایک قائد درکار ہوتا ہے۔ اہل مغرب اسی قسم کے ایک قائد تھے۔ اس سے پہلے اہل اسلام کو قیادت کا یہ موقع ملا تھا۔ موجودہ زمانے میں منصوبہ الہی کے تحت یہ موقع اہل مغرب کے حصے میں آیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول جب ایران میں داخل ہوئے تو اہل ایران اُن سے خائف ہوگئے۔ انھوں نے اصحاب رسول کے طاقت ور داخلے کو دیکھ کر کہا: دیواں آمدند، دیواں آمدند (الأخبار الطوال لأبي حنيفّة الدينوری، صفحہ 126)۔ یعنی دیو آگئے، دیو آگئے ۔ اہل ایران نے اصحاب رسول کے داخلے کو منفی معنوں میں لیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger) تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار ایک صحابی رسول ربعی بن عامر نے ایران کے سپہ سالار رستم سے گفتگو کرتے ہوئے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا: اِنَّ اللَّهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (البدایة والنهایة، جلد 7، صفحہ 46)۔ یعنی، اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تا کہ وہ جس کو چاہے، ہم اُس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ ساتویں صدی میں اٹھنے والے اصحاب رسول کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اُس زمانے میں ایک نئے دور کے نقیب تھے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ جو گروہ نئے دور کا نقیب بن کر ابھرتا ہے، اس کو دوسروں کے اوپر قیادت (leadership) کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ قیادت کسی سازش یا دشمنی کے سبب وجود میں نہیں آتی، بلکہ وہ فطرت کے لازمی تقاضے کے طور پر وجود میں آتی ہے۔ یہی معاملہ موجودہ زمانے میں اہل مغرب کے ساتھ پیش آیا۔ اہل مغرب اصلاً ایک نئی تہذیب کے نقیب (harbinger) تھے۔ لیکن فطری تقاضے کے طور پر مزید یہ ہوا کہ اُن کو اپنی ہم عصر قوموں کے اوپر قیادت حاصل ہوگئی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ اہل مغرب کی اس قیادت کو ایک فطری واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، جیسا کہ اس سے پہلے دنیا کی قوموں نے مسلم قیادت کو قبول کر لیا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس راز کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page