اظہارِ دین
Urdu book, p. 497
By Maulana Wahiduddin Khan
نے مغربی تہذیب کو دشمنی اور سازش کا کیس قرار دے دیا۔ وہ اُن سے نفرت کرنے لگے، یہاں تک کہ ہر جگہ وہ اُن سے لڑنے لگے۔ یہ لڑائی جو جہاد کے نام پر کی گئی تھی، وہ قانونِ فطرت کے خلاف تھی، اِس لیے وہ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر نا کام ثابت ہوئی۔ اِس ناکامی کی ذمے داری مکمل طور پر مسلمانوں کے اوپر ہے۔ مسلمانوں نے اہلِ مغرب کے خلاف جو جنگ چھیڑی، وہ اُن کے خیال کے مطابق، اہلِ مغرب کے خلاف جنگ تھی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ منصوبہء الہٰی کے خلاف جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر ناکام ہوئی، اُس کا انجام اِس کے سوا کچھ اور نہیں نکلا کہ مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خلافتِ آدم قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے جب آدم (انسانِ اول) کو پیدا کیا، اُس وقت آدم کے علاوہ دو اور مخلوقات تھیں— جن اور ملائکہ۔ اللہ تعالیٰ نے جن اور ملائکہ سے کہا کہ تم آدم کے آگے جھک جاؤ۔ اُس وقت فرشتے آدم کے سامنے جھک گئے، لیکن جنات کا سردار ابلیس نہیں جھکا۔ ابلیس نے کہا کہ میں آدم سے برتر ہوں، کیوں کہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ ایسا کیوں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین بنائی تو پہلے اس کو جنات کے چارج میں دے دیا۔ مگر جنات نے سرکشی کی اور باہم لڑ کر فساد بر پا کیا۔ اِس طرح جنات زمین کا انچارج بننے کے لیے نااہل ہو گئے۔ اِس کے بعد اللہ نے جنات کو معزول کر دیا اور ان کی جگہ انسان کو پیدا کر کے زمین کو انسان کے چارج میں دے دیا۔ اِس تبدیلی کو جنات نے قبول نہیں کیا، اس لیے جنات کے سردار ابلیس نے آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے پہلے جنات کو پیدا کیا تھا (15:27)۔ اِس لحاظ سے انسان زمین پر جنات کا جانشین، یعنی خلیفہ الجن ہے۔ کچھ لوگ خلافت کی آیت: (إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)) ۔ یعنی، میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں— سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader