خلافتِ آدم
Urdu book, p. 498
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نظریہ اخذ کرتے ہیں کہ انسان زمین پر خدا کا خلیفہ (خلیفۃ اللہ) ہے۔ یہ نظریہ بلا شبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔ انسان کو زمین میں خلیفہ بنانے کا مطلب کیا ہے، اس کو قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس قسم کی دو آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: 1- ”کہہ کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں“(18:109)۔ 2- ”اور اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے“ (31:27)۔ قرآن کی ان آیتوں میں جن لامحدود کلمات الہی کا بیان ہے، وہ صرف بطور خبر نہیں ہے، بلکہ وہ بطور انشاء ہے۔ ان آیتوں میں اشارۃً یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ کائنات میں چھپے ہوئے ان کلمات کو دریافت کیا جائے اور ان کو ”قلم“ سے لکھا جائے، تاکہ انسان اللہ کی عظمتوں سے واقف ہو اور اعلیٰ درجہ معرفت کے ساتھ الحمد للہ کہہ سکے۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق، کلمات اللہ کی دریافت (discovery) اور ان کو قلم بند کرنے کا پر اس (process) موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت میں دوبارہ جاری رہ کر وہ تکمیل کے منازل طے کرتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اس عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے واقعے کا نام انسانی تہذیب (human civilization) ہے۔ جدید انسانی تہذیب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دراصل، فطرت (nature) میں چھپے ہوئے کلمات الہی کو دریافت کرنے ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہ عمل ابتدائی طور پر اسی دنیا میں انجام پا چکا ہے اور اسی کا نام جدید تہذیب ہے۔ یہی وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader