خلافتِ آدم
Urdu book, p. 499
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (43:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ کلمات اللہ کے اس دنیوی اظہار کا کام زیادہ تر سیکولر اہل علم نے کیا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062)۔ یعنی، بیشک اللہ تعالی ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ فرمائے گا۔ اس حدیث میں ’’ رجل فاجر ‘‘ سے مراد موجودہ زمانے کے سیکولر اہل علم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعے جدید تہذیب کو وجود دیا ہے جو کہ ’’ کلمات اللہ ‘‘ کی جزئی انفولڈ نگ (unfolding) کے ہم معنی ہے۔ کلمات اللہ لامحدود ہیں اور موجودہ دنیا کے امکانات محدود۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی انفولڈ نگ صرف محدود طور پر ہی ہوسکتی ہے۔ کلمات اللہ کی کامل انفولڈ نگ کے لیے ایک اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ اسی وسیع تر دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ پوری انسانی تاریخ سے، لائق افراد منتخب کیے جائیں گے اور ان منتخب افراد کو آخرت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے گا۔ وہاں یہ منتخب افراد کلمات اللہ کی مزید انفولڈ نگ کا کام انجام دیں گے۔ یہ انفولڈ نگ ابد تک جاری رہے گی، وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ آخرت میں کلمات اللہ کی انفولڈ نگ کے ذریعے ایک برتر تہذیب وجود میں آئے گی۔ اس کو خدائی تہذیب (divine civilization) کہا جا سکتا ہے۔ کلمات اللہ کی اس لامحدود انفولڈ نگ کو قرآن میں: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69)۔ یعنی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ بسم اللہ کے بعد قرآن کی پہلی سورۃ کی پہلی آیت یہ ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:2)۔ یعنی، سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا مالک ہے۔ یہ حمد خداوندی کا ابتدائی درجہ ہے جو موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی جزئی انفولڈ نگ کے دوران ادا ہوگا۔ ٹھیک یہی کلمہ (الْحَمْدُ لِلَّهِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader