قرآن کا تصورِ تاریخ
Urdu book, p. 506
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا تصور تاریخ قرآن کے بارے میں ایک لمبی حدیث کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: کتاب اللہ، فِیہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3130)۔ یعنی، قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی باتیں ہیں اور اس میں تمھارے بعد کے لوگوں کی خبریں ہیں۔ ایک صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود نے قرآن کے بارے میں فرمایا: فِیہِ عِلْمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1808)۔ یعنی، قرآن میں پچھلے لوگوں کا بھی علم ہے اور بعد کے لوگوں کا بھی علم ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن جامع معنوں میں انسانی نسلوں کی کوئی تفصیلی تاریخ ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قرآن میں تاریخ بشری کے نمائندہ واقعات موجود ہیں، یعنی ایسے تاریخی حوالے جن پر غور کر کے پورے دورِ تاریخ کی ایک جامع تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ تاریخ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ گزرے ہوئے واقعات کا سلسلہ وار بیان (chronicle) ہو۔ یہ تاریخ کا معروف مؤرخانہ تصور ہے۔ تاریخ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ تاریخی واقعات کو اس اعتبار سے بیان کیا جائے کہ وہ خالق کے نقشۂ تخلیق کو بتانے والا ہو۔ تاریخ کے پہلے تصور میں تمام واقعات کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ تاریخ کے دوسرے تصور میں تاریخ کے صرف منتخب اور نمائندہ اجزا بیان کیے جاتے ہیں۔ یہی دوسرا طریقہ قرآن کے تصورِ تاریخ کے مطابق ہے۔ مگر یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ تاریخ کے نمائندہ واقعات بھی قرآن میں مروجہ تاریخی اسلوب میں نہیں ہوتے، وہ صرف حوالہ (reference) کے اسلوب میں ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں جن تاریخی حوالوں کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ اشارے کی زبان میں ہوتے ہیں۔ یہ قاری کے اوپر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسا کرے کہ قرآن کے باہر جو تاریخی ریکارڈ موجود ہے، اُس سے ضروری اجزا لے کر وہ قرآن کے اشارات کی تفصیل کرے۔ وہ بظاہر غیر متعین زبان میں کہی ہوئی بات کو متعین اسلوب میں مدوّن کرے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader