Urdu book · اظہارِ دین

قرآن کا تصورِ تاریخ

Urdu book, p. 507

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت آدم کے بعد ان کی نسل میسو پوٹামیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد ہوئی۔ یہ نسل شریعت آدم پر قائم تھی۔ بعد کے زمانے میں جب اُن کے اندر بگاڑ آیا تو تقریباً پانچ ہزار سال پہلے پیغمبر نوح پیدا ہوئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ کچھ افراد نے آپ کی دعوت کو مانا، لیکن بیش تر افراد نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس علاقے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اس موقع پر ایمان لانے والے افراد ایک کشتی کے ذریعے بچا لیے گئے اور بقیہ تمام افراد ہلاک کر دیے گئے۔ اس کشتی کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأَنْجَيْنَهُ وَأَصْحَبَ السّفَيْنَةَ وَجَعَلْتُهَا آيَةً لِّلْعَلَمِينَ (29:15)۔ یعنی، پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَقَدْ تَّرَكْنَهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (54:15)۔ اس آیت کا ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے ان الفاظ میں کیا ہے — اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشان کے لیے (We (have left it as a sign_. حضرت نوح کا واقعہ ایک پورے دور تاریخ سے تعلق رکھتا ہے جو حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ایک نمائندہ جز کشتی نوح (Noah's Ark) ہے۔ کشتیٔ نوح کے بارہ میں قرآن نے بتایا کہ اُس کو اللہ نے عبرت کے طور پر باقی رکھا ہے۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں بوقت نزول قرآن کسی کو اس کشتی کا علم نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پہاڑوں کے اوپر جمی ہوئی برف بڑے پیمانے پر پگھلنے لگی۔ اس کے بعد ہوائی سروے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ترکی کے مشرقی علاقے میں کوہ ارارات (Mount Ararat) کے اوپر کشتی برف کی موٹی تہہ کے نیچے دبی ہوئی موجود تھی جو اکیسویں صدی میں سامنے آگئی۔ قرآن میں کشتی نوح کا ذکر مختصر طور پر موجود تھا۔ اب بعد کو دریافت کردہ معلومات کی روشنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page