زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 534
By Maulana Wahiduddin Khan
زوال کا شکار ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ مسلمان، قرآن کی زبان میں، خیر امت (3:110) نہیں ہیں، وہ بعد کے دور میں وجود میں آنے والے ایک زوال یافتہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا کیس وہی ہے جس کو قرآن میں طولِ امد‘ کے ذریعے پیدا ہونے والی قساوت (57:16) کا کیس کہا گیا ہے۔ تحریکوں کی ناکامی کا سبب پچھلے دوسوسال کے اندر مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے ملت کے احیا کے لیے بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں اور بہت سی بڑی بڑی جماعتیں بنائیں۔ ان تحریکوں اور جماعتوں کے تحت جو پرجوش سرگرمیاں جاری ہیں، ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں، اُن کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ : زمیں ششش شد و آسمان ہشت شد مگر یہ تحریکیں اپنے اعلان کردہ مقصد کے اعتبار سے مکمل طور پر نا کام رہیں۔ اِس کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ ان رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کو ” خیر امت “ فرض کر کے اپنا کام شروع کیا، جب کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ انبوه ایک زوال یافتہ گروہ کے درجے میں پہنچ چکا تھا۔ اصلاح کا آغاز افراد سے دور زوال کی نفسیات یہ ہے کہ زوال اگر چہ عمومی سطح پر ہوتا ہے، لیکن اصلاح کا آغاز افراد کی سطح سے کیا جاتا ہے ۔ دور زوال میں مجموعی اصلاح کا طریقہ سراسر بے معنی ہے۔ قرآن کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں کام کا آغاز اصلاح افراد سے کیا جائے ، یعنی بھیڑ کو ایڈریس کرنے کے بجائے افراد کو ایڈریس کرنا ۔ اصلاح کی اِس حکمت کو قرآن کی دو آیتوں میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے : 1 ۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader