Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 535

By Maulana Wahiduddin Khan

اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (53:8) ۔ یعنی ، یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے، اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو اُن کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک، اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ 2 ۔ اِنَّ اللهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ (13:11) ۔ یعنی ، بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا، جب تک وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں جو اُن کے نفسوں میں ہے۔ قرآن کی ان دونوں آیتوں کا مطلب ایک ہے، وہ یہ کہ جب کوئی قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہو جائے اور اس کو دوبارہ عروج کی طرف لوٹانا ہو تو اصلاح کے کام کا آغاز مجموعی قوم کی سطح سے شروع نہیں کیا جائے گا، بلکہ افراد کی سطح سے شروع کیا جائے گا۔ ایسا نہیں کیا جائے گا کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ قوم تو موجود ہے، اب اُس کو صرف اجتماعی اقدام کی طرف متحرک کرنا ہے، بلکہ یہ تسلیم کیا جائے گا کہ قوم موجود نہیں ہے اور افراد کی اصلاح کر کے دوبارہ قوم کو وجود میں لانا ہے۔ یہی اللہ کا قانون ہے، اور اللہ کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی (33:62) ۔ اِس معاملے کی ایک واضح عملی مثال موجودہ زمانے میں پائی جاتی ہے، اور یہ فلسطین اور پاکستان کی مثال ہے۔ دونوں کا کیس بالکل ایک ہے۔ فلسطین کا تعلق عرب دنیا سے ہے، اور پاکستان کا تعلق بقیہ مسلم دنیا سے۔ فلسطین اور پاکستان کا معاملہ گویا موجودہ زمانے میں اِس قانون الہی کو سمجھنے کے لیے عملی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطین اور پاکستان دونوں کے کیس میں ایسا ہوا کہ قوم کی سطح پر ایک مسلم ملک وجود میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں جگہ مکمل طور پر ناکامی ہوئی۔ فلسطین کا مسئلہ 1948 میں شروع ہوا۔ فلسطینی جدوجہد پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ اس جدوجہد میں جان و مال کی جو قربانی دی گئی ہے، وہ شاید پوری مسلم تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے، مگر انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پوری جدوجہد معکوس نتیجہ (counter productive) کی بدترین مثال ثابت ہوئی ہے۔ اِس معاملے میں دوسری مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا۔ اس سے پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page