Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 545

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا حصہ پیغمبر کو دینا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی ، وہ تمام تر منصوبہ الہی کے تحت بنی ۔ پیغمبر اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے ۔ ان پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان تو ہوا ، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عام منصوبے کے مطابق ، اس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔ اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ اس نسل کی اعلیٰ خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروزوں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے۔ اسی خصوصی نسل میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے ۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک ، ایک انتہائی اعلیٰ نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی ، وہ دراصل اسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی۔ قرآن میں اس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا ، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا ، بلکہ وہ براہ راست طور پر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page