زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 551
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی جس سورہ میں اس واقعے کا ذکر ہے، اس میں مقصد سفر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (17:1) یعنی تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں: So that We might show him some of Our signs. اس آیت میں جس نشانی کا ذکر ہے، اس سے مراد خود سفر ہے، نہ کہ یروشلم میں واقع کوئی چیز۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے جو کتاب ہدایت ( قرآن) بھیجی، وہ اس لیے تھی تا کہ وہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ یہ عالمی پیغام رسانی کیوں کر ممکن ہوگی، اس کے بارے میں اشاراتی طور پر بتایا گیا کہ عالم فطرت (nature) میں اللہ نے بالقوہ طور پر تیز رفتار ترسیل (rapid communication) کے امکانات رکھ دیے ہیں جن کو دریافت کرکے واقعہ بناؤ اور اُن کو تمام اہلِ عالم تک پیغام خداوندی (قرآن) کو پہنچانے کے لیے استعمال کرو۔ استبدال قوم کا اصول امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے لمبی مدت تک یہ موقع دیا کہ وہ فطرت کے اس امکان کو واقعہ بنائے اور قرآن کے سلسلے میں اپنی عالمی ذمے داری کو پورا کرے، لیکن امت مسلمہ کے رہنما اور قائدین اس راز کو نہ سمجھ سکے۔ وہ دوسرے میدانوں میں سرگرم رہے، لیکن دعوت الی اللہ کے عالمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو عمل مطلوب تھا، اُس عمل کو انجام دینے میں وہ پوری طرح ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ظاہر ہوئی جس کو قرآن میں استبدال قوم (47:38) کہا گیا ہے، یعنی ایک خدائی مطلوب کو انجام دینے میں اگر ایک گروہ ناکام ہو جائے تو اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لے آنا۔ یہی موجودہ زمانے میں جن مغربی قوموں نے دورِ مواصلات ( age of communication) پیدا کیا ہے، وہ اسی استبدال قوم کی وسیعی صورت ہے۔ تائید بذریعہ سیکولراقوام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشین گوئیاں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اُن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader