زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 552
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سے ایک پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی، اللہ یقیناً اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد سیکولر ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب امتِ مسلمہ دعوتِ دین کے عالمی ذرائع کو دریافت کرنے میں ناکام ہو جائے گی تو اُس وقت اللہ تعالیٰ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو اس کام کو انجام دیں، یعنی جب دینی محرک (religious incentive) اس کام کو انجام دینے میں ناکام ہو جائے گا تو اللہ کچھ لوگوں کو دنیوی محرک (secular incentive) کے ذریعہ اٹھائے گا۔ وہ فطرت میں تحقیق و جستجو کے ذریعے فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو واقعہ بنائیں گے۔ یہ اُن لوگوں کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے ایک سپورٹنگ رول ہوگا۔ موجودہ زمانے میں، خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اہل مغرب نے سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں جو دریافتیں کی ہیں، وہ سب اسی نوعیت کی ہیں۔ ان دریافتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے ایک خارجی سپورٹ کا انتظام کیا ہے۔ ملی رہنماؤں کی ناکامی اہل مغرب نے تائید کا جو کام انجام دیا، اُس کے پیچھے کوئی دینی جذبہ نہیں تھا۔ یہ کام انھوں نے اپنے مادی اور قومی جذبے کے تحت کیا۔ یہ بالکل فطری تھا۔ اس قسم کے ذاتی محرک کے بغیر وہ خارجی سپورٹ فراہم کرنے کا کام انجام نہیں دے سکتے تھے۔ مزید یہ کہ جب انھوں نے اتنا بڑا تاریخی کام انجام دیا تو یہ بھی فطری تھا کہ اُن کو عالمی دبدبہ حاصل ہو جائے۔ کسی بڑے رول کے ساتھ دبدبہ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ذریعے اُن کو نہ صرف مادی فائدے حاصل ہوئے، بلکہ اُن کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی غلبہ بھی حاصل ہو گیا۔ یہ اُن کے سپورٹنگ رول کی قیمت تھی ۔ اس قیمت کے بغیر وہ اپنا سپورٹنگ رول انجام نہیں دے سکتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader