Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 553

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے میں عاجز رہے۔ وہ اس حکمت (wisdom) کا ثبوت نہ دے سکے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ متعلق حصے کو لینا اور غیر تعلق حصے کو چھوڑ دینا۔ مغربی قو میں جب جدید طاقتوں کے ساتھ ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئیں تو اس داخلے کے دو پہلو تھے ۔ ایک، یہ کہ ان مغربی قوموں نے فطری طور پر اُس وقت کی مسلم دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس واقعے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ قومیں اُس عظیم نعمت کو لے کر آئی تھیں جو خود اسلام کا عین مطلوب تھا، جس کا ہزار سال سے تاریخ کو انتظار تھا، یعنی جدید مواصلات (modern communication)۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنما بروقت اُس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جو اُس وقت اُن سے مطلوب تھی، یعنی سیاسی مسئلے کو عملی طور پر نظر انداز کرنا اور کمیونیکیشن کے جدید ذرائع کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل اُسی دانش مندی کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔ ایک عرب شیخ عبدالرحمن حبنکہ المیدانی نے اپنی ایک کتاب میں بتایا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ کے تمام مسائل کا اصل سبب تین اثر دہے ہیں۔ مصنف کے نزدیک، یہ تین اثر دہے یا یہ تین بڑے سانپ یہ ہیں ۔ استعمار (colonialism)، استشر اق (orientalism)، مسیحی مبلغین (Christian missionaries)۔ یہ کسی ایک مصنف کی بات نہیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کی سوچ ہے۔ اسی غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے 200 سال سے ان مفروضہ ”افاعی“ سے لڑنے اور ان کو ختم کرنے میں مشغول ہیں، لیکن عملی نتیجہ مکمل طور پر برعکس صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ”افاعی“ اپنی حقیقت کے اعتبار سے افاعی نہ تھے، بلکہ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق، وہ مؤیدین اسلام (supporters of Islam) کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے موجودہ زمانے میں وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید مواصلات کہا جاتا ہے۔ جدید مواصلات کو انھوں نے اپنے مقصد کے لیے ڈیولپ کیا تھا، لیکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page