Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 554

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید مواصلات، عالمی مواصلات ہیں، اُن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر مسلم علما اور رہنما صرف یہ کرتے کہ وہ ان مفروضہ افاعی کے خلاف ٹکراؤ کا محاذ نہ کھولتے اور پُرامن طریق کار اختیار کرتے تو بلا شبہ وہ جدید مواصلات کو کامل طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے تھے اور اسلام کی عالمی دعوت کے اُس منصوبے کو پورا کر سکتے تھے، جس کا تاریخ کو ہزار سال سے انتظار ہے۔ ایک تاریخی حوالہ پروفیسر ٹی ڈبلو آرنلڈ (Thomas Walker Arnold) ایک ممتاز برٹش مستشرق (orientalist) تھے۔ وہ 1864ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور 1930ء میں اُن کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر اسلامی دعوت کے موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب 508 صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار 1896ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Preaching of Islam اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بعد کے ہزار سال تک مختلف ملکوں میں اسلام کی دعوت کس طرح پھیلی۔ مثال کے طور پر افریقہ کے بارے میں انھوں نے ایک رپورٹ کے حوالے سے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ۔ اس وقت جس رفتار سے افریقہ میں اسلام پھیل رہا ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نائجر دریا کے دونوں کناروں پر 1910 تک مشکل ہی سے کوئی گاؤں بچے گا جو اسلام کے حلقے میں نہ آ گیا ہو: A Christian missionary reports: "When I came out in 1898, there were few Muhammadans to be seen below Iddah. Now they are everywhere, excepting below Abo, and at the present rate of progress there will scarcely be a heathen village on the river (Niger) banks by 1910." (p. 329) پروفیسر آرنلڈ نے یہ بات مغربی افریقہ کے نائجر دریا کے دونوں طرف واقع بستیوں کے بارے میں لکھی ہے۔ واضح ہو کہ نائجر دریا تقریباً چار ہزار دو سو کلومیٹر (4,180) لمبا ہے۔ وہ افریقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page