Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 556

By Maulana Wahiduddin Khan

ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ سارے عالم کا رب ہے (1:2)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کر کے اس کو چھوڑ نہیں دیا، بلکہ وہ ہر لمحہ کائنات کو بینچ کر رہا ہے، مادی کائنات کو بھی اور انسانی تاریخ کو بھی۔ مادی کائنات میں اللہ کا بینچ مینٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چونکہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو بینچ کر رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے۔ اس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ دنیا کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ وہ انسانی تاریخ کو اس طرح بینچ کر رہا ہے کہ موجودہ زمین اپنے دارالامتحان (testing ground) ہونے کی حیثیت کو کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر برقرار رکھے ۔ اس کا مقصد زمین پر اجتماعی معنوں میں کوئی صالح نظام قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی انفرادی تعمیر کرنا چاہے، وہ کسی خلل کے بغیر اپنی شخصی تعمیر کرتا رہے۔ اللہ کی اس سنت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمُ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (2:251)۔ یعنی، اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے، مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا افضل کرنے والا ہے: And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page