Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 557

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ بظاہر کسی اعلان کے بغیر اپنا کام کر رہا ہے۔ قرآن کی سورۃ الکہف (82-18:60) میں موسیٰ اور خضر کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہ اسی میچ مینٹ کی ایک جزئی مثال ہیں۔ اس میں جس کردار کو خضر کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک فرشتہ تھا، نہ کہ کوئی انسان۔ دو طرفہ نظام اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایک طرف یہ کیا کہ پیغمبروں کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جو ساتویں صدی عیسوی میں خاتم النبیین کے ظہور تک جاری رہا۔ یہ پیغمبر اس لیے آئے تاکہ انسان کو لفظی طور پر یہ بتا دیا جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے، تاکہ جو انسان اس تخلیقی منصوبے کے مطابق زندگی گزارنا چاہے، وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کر سکے۔ خاتم النبیین کے ذریعے اللہ کا جو کلام قرآن کی شکل میں آیا، وہ پوری طرح محفوظ ہو گیا، اور پرنٹنگ پریس کے دور میں ہر انسان تک اس کا مستند نسخہ پہنچ گیا۔ اس لیے اب کسی پیغمبر کے آنے کی ضرورت نہیں۔ اس خدائی انتظام کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخ کار بانی مسیج مینٹ (divine-management of history) کہا جا سکتا ہے۔ اس میچ مینٹ کا خاص حصہ یہ ہے کہ زمین پر کوئی فتنے کی حالت قائم نہ ہونے پائے۔ چنانچہ جب بھی زمین پر فتنے کی کوئی حالت قائم ہوتی ہے تو اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو اس کو ختم کر دینے والے ہوں۔ موجودہ زمانے میں اس قانون دفع کی ایک مثال یہ ہے کہ 1917 میں کمیونسٹ ایمپائر قائم ہوا۔ اس نے ایک بڑے رقبے میں خلاف مذہب قانون بنا کر انسان سے چوائس (choice) کا حق چھین لیا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے امریکا کو استعمال کیا اور تقریباً 75 سال کے بعد 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے تحت قائم شدہ جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page