زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 558
By Maulana Wahiduddin Khan
امتِ مسلمہ کا رول اس خدائی منصوبے میں امتِ مسلمہ کا رول کیا ہونا چاہیے، اس کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بتا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورۃ الصف کی ایک آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (61:14)۔ یعنی، اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ قرآن کی اِس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے۔ اِس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اِس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطورِ ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق، امتِ مسیح نے کام کیا یا مستقبل میں کام کریں گے۔ یہ ماڈل آئیڈیالوجی یا عقیدے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method) کے اعتبار سے ہے۔ اِس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community) کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2898)۔ ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اِسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی۔ حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا۔ فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی نفرت نہیں کی۔ اُنھوں نے دشمنوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، حتیٰ کہ ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ بھی نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader