زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 559
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ خاموشی کے ساتھ فلسطین سے باہر چلے گئے اور حضرت مسیح کی تعلیم: دشمن سے محبت کرو ( love your enemy ) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پرامن دعوت ( peaceful missionary work ) میں مشغول ہوگئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سینٹ پال کے زیر اثر مسیحی گروہ کے اندر کچھ نظریاتی انحرافات پیدا ہوئے، لیکن جہاں تک پرامن طریق کار کا معاملہ ہے، اُس پر وہ بدستور پوری طرح قائم رہے۔ پرامن مشنری سرگرمیوں کے ذریعے مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیلتی رہی، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ بسٹنٹائن اول (Constantine I) نے 337 میں مسیحی مذہب قبول کرلیا۔ یہ النَّاسُ عَلٰى دِيْنِ مُلُوكِهِمْ (جو بادشاہ کا دین وہی رعایا کا دین ) کا دور تھا۔ چنانچہ جلد ہی ایسا ہوا کہ یورپ کے تقریباً تمام باشندوں نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا، مسیحی گروہ کو یہ غیر معمولی کامیابی تمام تر پر امن دعوت کے ذریعے حاصل ہوئی۔ مسیحی گروہ کے ذریعے تاریخ میں اس سلسلے میں دوسرا ماڈل ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوا۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں کو جب عروج ہوا تو انھوں نے رومن ایمپائر کو توڑ دیا اور اس مسیحی سلطنت کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس علاقے میں مسیحی عقیدے کے مطابق، مقدس مقامات، شام اور فلسطین، بھی شامل تھے۔ بعد کے زمانے میں یورپ کے مسیحی بادشاہوں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لے لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے وہ جنگ چھیڑی جو تاریخ میں، صلیبی جنگ ( Crusades ) کے نام سے مشہور ہے ۔ صلیبی جنگ وقفے وقفے سے تقریباً دو سو سال (1291-1095) تک جاری رہی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں، اس جنگ میں یورپ کی مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست ( humiliating defeat ) ہوئی ۔ مگر تاریخ کا یہ انوکھا معجزہ ہے کہ اس شکست کے بعد مسیحی قوموں میں منفی رد عمل ( negative reaction ) کا جذبہ نہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے یہ کیا کہ اپنے جذبے کو پر امن عمل کی طرف ڈائورٹ ( divert ) کردیا، یعنی مسلمانوں سے مسلح مقابلہ ختم کر کے علم و تحقیق کے میدان میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader