Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 560

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈائو رشن (diversion) کے اس عمل کو ابتدائی زمانے میں، اسپر پچول کروسیڈ (spiritual crusades) کہا گیا تھا۔ بعد کو وہ رفتہ رفتہ سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) میں تبدیل ہوگیا۔ اس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہائوس اریسٹ (house arrest) کردیا جس کا کل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے۔ اس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے۔ اس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دوربین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا۔ اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو نا قابل قیاس حد تک وسیع تھا۔ اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالم صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالم کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہل علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کر دیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ قابلِ تقلید ماڈل قرآن کی سورہ الصف میں پیروان مسیح کے اس ماڈل کو اہل ایمان کے لیے قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے مراد خاص طور پر پیروان مسیح کی تاریخ کے یہی دو واقعات ہیں۔ پہلا واقعہ وہ ہے جو حضرت مسیح کے بعد کی ابتدائی صدیوں میں پیش آیا، اُس وقت پیروان مسیح کو سخت طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page