Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 561

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جو حضرت مسیح نے اُن کو ان الفاظ میں بتایا تھا_ اپنے دشمن سے محبت کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی طرف سے اگر تم کو دشمنی کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچاؤ اور یک طرفہ طور پر پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاؤ۔ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد سامنے آیا، یعنی عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اپنے میدان عمل کو بدل دینا، جیسا کہ پیروانِ مسیح نے کیا۔ انھوں نے مسلح کروسیڈ کے میدان میں اپنی کوششوں کو بے نتیجہ پایا تو انھوں نے ڈانؤ رژن کا طریقہ اختیار کیا، اس طرح کہ عسکری میدان کو چھوڑ کر پر امن سائنسی میدان میں اپنے آپ کو سرگرم عمل کر لیا۔ امتِ مسلمہ کی کوتاہی عجیب بات ہے کہ سورۃ الصف میں مسلمانوں کو جو عملی نصیحت کی گئی تھی، اس کو وہ اختیار نہ کر سکے۔ مسلمانوں سے یہ مطلوب تھا کہ وہ پیروانِ مسیح کے اُس ماڈل کو اپنائیں جس کو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ یہی وہ پر امن ماڈل ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اختیار فرمایا تھا۔ مگر مسلمان بحیثیت قوم اِس سے بے خبر رہے، وہ اِس ماڈل کو اپنانے میں ناکام رہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں۔ پہلی مثال وہ ہے جو نو آباد یاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی۔ اس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد مسلمان منفی رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے ۔ وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالانکہ قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پر امن طریق کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدان جنگ کو چھوڑ کر میدانِ دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشد دانہ ٹکراؤ کر رہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پر امن دعوہ ورک شروع کر دیتے ۔ اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اس سے پہلے پیروانِ مسیح کے اوپر صادق آ چکے تھے، یعنی : فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page