زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 581
By Maulana Wahiduddin Khan
قائم کر کے مسلمان موجودہ دو عملی کی بُرائی سے بچ سکتے ہیں اور اِسی کے ساتھ امتِ مسلمہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی عمومی ذمے داری کو ادا کر سکتے ہیں، یعنی دعوت الی اللہ کی ذمے داری۔ آئیڈیالوجی آف دعوہ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت عملاً زندہ نہ رہے اور پھر کوئی شخص اس کو اپنی کوششوں سے زندہ کرے، تو اس عمل پر اس کے لیے بہت بڑا اجر ہے: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِهَا (سُنَن التّرمذی، حدیث نمبر 2677)۔ اس حدیث کو سامنے رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی سنت رسول ہے جو آج زندہ نہیں ہے تو بلاشبہ وہ صرف ایک سنت ہوگی، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے تو ان کے درمیان نماز اور روزہ اور حج اور زکواۃ جیسے دینی اعمال بہت بڑے پیمانے پر انجام دیے جا رہے ہیں، لیکن صرف ایک ہی بڑی سنت ہے جو آج عملاً زندہ نہیں، اور وہ دعوت الی اللہ کی سنت ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ ملی خدمت یا اصلاحِ المسلمین کا کام کریں گے اور وہ اس کو دعوت الی اللہ کا نام دے دیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتے کو زندہ کرنا، اس معاملے میں سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم ترین کام ہے۔ دعوت کی اِسی اہمیت کی بنا پر قرآن میں اُس کو جہادِ کبیر (25:52) کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان دعوتِ الی اللہ کی سنت کو حقیقی معنوں میں زندہ کرنے کے لیے ایک مکمل دعوہ آئیڈیالوجی (ideology of dawah) درکار ہے، ایک ایسی آئیڈیالوجی جو دعوت کی اہمیت کو جدید علمی اصول پر مدلل کرے، جو اُن سوالات کا تشفی بخش جواب دے جو دعوت کے راستے میں ذہنی رکاوٹ (intellectual obstacle) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader