زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 582
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت کا کام ایک ایسے ماحول کا طالب ہے، جہاں داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور تشدد کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ یہ خاتمہ فریقِ ثانی کی طرف سے کبھی نہیں کیا جائے گا۔ یہ خاتمہ جب بھی ہوگا، وہ داعی گروہ کی طرف سے یک طرفہ طور پر کیا جائے گا، اِس لیے قرآن میں دعوت کا حکم دیتے ہوئے پیغمبر اسلام سے فرمایا گیا: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (74:7)۔ یعنی، اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ مدعو کی طرف سے تمام زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرو اور پوری طرح مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھو۔ جدید نظریات موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نظریات سامنے آئے ہیں جو بظاہر اسلام کے روایتی موقف سے ٹکراتے ہیں۔ اِس ظاہری ٹکراؤ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ان جدید نظریات کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ان نظریات کی ایسی توضیح کی جائے جو اس معاملے میں مسلمانوں کے منفی ذہن کا خاتمہ کر سکے۔ بصورتِ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان وہ نارمل تعلقات قائم نہیں ہوں گے جو دعوت کے مثبت عمل کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں شتم رسول کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے ایک حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلمان جب بھی کوئی ایسی تحریر پڑھتے ہیں یا تقریر سنتے ہیں، جو اُن کے نزدیک شتم رسول کے ہم معنی ہو، تو وہ فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں اور تشدد کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہایت سنگین طور پر دعوتی عمل کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ جدید تہذیب کے زیر اثر آج تمام غیر مسلم قوموں میں یہ مان لیا گیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی مطلق معنوں میں انسان کا ایک حق ہے، کسی بھی عذر کی بنا پر اس کو ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ماحول میں مسلمان جب بطورِ خودشتَم کے واقعے کو لے کر ہنگامہ شروع کرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ذریعے فوراً لوگوں کے علم میں آ جاتا ہے، تو لوگ یہ تصور قائم کر لیتے ہیں کہ اسلام آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اِس بنا پر اسلام اس قابل نہیں کہ وہ جدید انسان کا مذہب بن سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader