Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 583

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ذاتی طور پر شتم رسول کو ایک ایسا معاملہ سمجھتا ہوں جس پر مسلمان صرف دو قسم کے رویئے کا حق رکھتے ہیں ۔ یا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے خاموش رہیں ، یا دلیل کی زبان میں پُر امن طور پر وہ اس کا جواب دیں ۔ اس موضوع پر میں نے ” شتم رسول کا مسئلہ “ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جو 191 صفحات پر مشتمل ہے اور 1997 میں نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہے ۔ تاہم بالفرض اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ شتم رسول ایک قابلِ گردن زدنی معاملہ ہے، اور شتم کا کیس یُقتل حَدّاً کا کیس ہے ، تب بھی اس کو اس معاملے میں اجتہاد کرنا چاہیے ۔ دعوت الی اللہ کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ ایسا شخص اس معاملے کو الضرُّورَاتُ تُبیحُ المَحْظُورَاتِ کے خانے میں ڈالے، اور قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت ، اس کو موجودہ زمانے میں ساقط قرار دے ۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مسلمانوں کا منفی ذہن بدستور باقی رہے گا اور وہ دعوت جیسے مثبت عمل کے لیے نااہل (incompetent) قرار پائیں گے ۔ اوپر جن مسائل کا بیان ہوا، وہ براہ راست طور پر دعوت الی اللہ کی تجدید سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں ، ان کے ریفرنس میں دعوت کی اہمیت کو دوبارہ دریافت کرنا ہے ۔ نئے حالات میں جو نئے موانع (obstacles) پیدا ہوئے ہیں ، ان کا اس طرح جواب دینا ہے جو دعوت کے راستے کو دوبارہ کھولنے والا ہو۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کی بات کرنا دراصل انھیں سوالات کو ایڈریس کرنے کا نام ہے ۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عمل موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے کو ہموار کرنے والا نہیں ۔ ان مسائل سے صرف نظر کر کے اگر کوئی کام کیا جائے اور بطورِ خود اس کو دعوت الی اللہ کا نام دیا جائے ، تو یہ قرآن (3:188) کے الفاظ میں وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ( وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیے اس پر ان کی تعریف ہو ) کا مصداق ہوگا ، یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page