زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 584
By Maulana Wahiduddin Khan
آئیالوجی یا نظام اسلام کا نشانہ انسان کو اسلامی بنانا (Islamization of man) ہے، اسلام کا نشانہ اجتماعی نظام کو اسلامی بنانا (Islamization of system) نہیں۔ فرداور اجتماع کے درمیان یہ فرق عقیدہ کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی بنیاد پر ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق، یہی چیز ممکن ہے، اس کے سوا کوئی اور چیز عملاً ممکن ہی نہیں۔ قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں فرد کا دین پوری طرح موجود ہے، فکری اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ لیکن قرآن میں اجتماعی یا سیاسی زندگی کے لیے کوئی مکمل نظام موجود نہیں۔ مکمل نظام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک ویل اسٹرکچرڈ ماڈل (well-structured model) موجود ہو، مگر ایسا ماڈل نہ قرآن میں بیان ہوا ہے اور نہ حدیث میں۔ فرد کے احکام اور اجتماع کے احکام کے بارے میں یہ فرق کسی اتفاق کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ یہی اصولی طور پر اسلام میں مطلوب ہے۔ اگر یہ اصولی طور پر مطلوب نہ ہوتا تو یقینی طور پر قرآن میں اس کا واضح بیان موجود ہوتا۔ اس بنا پر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اکمال دین (5:3) وہی ہے جو بالفعل قرآن میں موجود ہے، یعنی قرآن میں فرد کی نسبت سے جس دین کا بیان ہے، وہی دین کامل دین ہے اور اجتماع کی نسبت سے قرآن میں جس دین کا بیان ہے، وہی دین اجتماع کی نسبت سے کامل دین ہے۔ قرآن کی سورہ الشوریٰ میں کہا گیا ہے کہ جو دین تمام نبیوں کے درمیان مشترک تھا، وہی ’ الدین‘ ہے اور اُسی الدین کی تم پیروی کرو (42:13)۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ تمام نبیوں کے درمیان مشترک دین وہی تھا جو فرد کی نسبت سے مطلوب ہے۔ اجتماع کی نسبت سے اگر کوئی مکمل نظام مطلوب تھا تو وہ مشترکہ طور پر تمام نبیوں کو دیا ہی نہیں گیا۔ اس فرق سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے انفرادی دین اور اجتماعی دین دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader