زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 585
By Maulana Wahiduddin Khan
الگ ہے، دونوں کا مطالعہ ایک واحد معیار کے تحت نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اَقِيْمُوا الدِّيْنَ‘ کا خطاب فرد سے ہے، یعنی ایک فردِ مسلم کی نسبت سے جو دین مطلوب ہے، اس کو چاہیے کہ اپنی انفرادی زندگی میں وہ اس پر قائم ہو جائے۔ اصولِ عملیت اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول کا مطالعہ کیجیے۔ زیر بحث موضوع کی نسبت سے ایک اہم روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا ، وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوْهَا ، وَحَدَّ حُدُوداً فَلَا تَعْتَدُوْهَا ، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396)۔ یعنی، اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، تم اُن کو ضائع نہ کرو۔ اللہ نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، تم اُن کا ارتکاب مت کرو۔ اللہ نے کچھ حدود مقرر کیے ہیں، تم اُن سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ نے کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت اختیار فرمایا ہے، تم اُن امور کے معاملے میں بحث مت کرو۔ اس حدیثِ رسول میں چار باتوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے ابتدائی تین چیزوں کا تعلق فرد سے ہے۔ فرائض کا اہتمام فرد کرتا ہے۔ حدود سے تجاوز نہ کرنے کا تعلق فرد سے ہے، حرام چیز سے بچنے کا تعلق فرد سے ہے۔ گویا کہ ان تین فقروں میں ایک شخص کے انفرادی دین کو بتایا گیا۔ حدیث کے آخری فقرے میں جو بات کہی گئی ہے، اس کا ایک پہلو اجتماعی زندگی سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اجتماع کے معاملے میں دینی روش کا تعلق خود اجتماع یا سماج کے حالات پر منحصر ہے۔ اجتماع کے معاملے میں ایک مومن کی روش کسی پیشگی معیار (ideal) کی بنیاد پر متعین نہیں ہوگی، بلکہ اس بنیاد پر متعین ہوگی کہ خود اجتماع کے حالات کیا ہیں، یعنی اجتماع کے قبولیت کی سطح (level of acceptance) کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایک مومن کو اپنی انفرادی زندگی میں معیارِ پسند (idealist) بننا ہے اور اجتماعی زندگی میں وہ روش اختیار کرنا ہے جس کو اصولِ عملیت (pragmatism) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader