Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 586

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کے آخری فقرے میں 'سکوت' کا مطلب مطلق سکوت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاملات، یعنی سماجی اور سیاسی معاملات کو اہلِ ایمان کے لیے کھلا (open) رکھا گیا ہے۔ اُن کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے لیے کوئی مناسب روش اختیار کریں۔ اسلام میں فرد کے دین اور اجتماع کے درمیان تفریق کا یہ اصول اُس مشہور اصول کی بنیاد پر نہیں ہے جو مغرب میں چرچ اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کے بعد پیدا ہوا اور جس کو مذہب اور سیاست کے درمیان علاحدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مغرب کا اصول مطلق تفریق یا نظریاتی تفریق کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں فرد اور اجتماع کے درمیان جو تفریق ہے، وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان پائے جانے والے فطری فرق کے اصول پر مبنی ہے، یعنی تقریباً یہی اصول جس کو عام طور پر اس مقولے میں بیان کیا جاتا ہے کہ ـــ سیاست ممکن کا آرٹ ہے: Politics is the art of the possible. اجتماعی اور انفرادی اصول کے درمیان فرق کی حکمت خالق نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ انسانی آزادی خالق کے منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر فرد اور اجتماع کا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جہاں تک فرد کا معاملہ ہے، ہر فرد کی زندگی اس کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے، لیکن فرد سے باہر جو انسانی مجموعہ ہے، اس کا معاملہ کسی کے اختیار میں نہیں۔ گویا حرکیات فرد کا اصول الگ ہے اور حرکیات اجتماع کا اصول الگ۔ ایک فرد اپنی ذاتی زندگی میں کوئی دینی مسلک اختیار کرے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، لیکن جب آپ اجتماعی زندگی، یعنی سماجی نظام یا سیاسی نظام میں کوئی تبدیلی لانا چاہیں تو فوراً ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو جائے گا، کیوں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ سماجی اور سیاسی نظام پر کوئی شخص یا گروہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page